9 فروری 2011 - 20:30

ہمارے اپنے انقلاب کے بارے میں، ملت ایران کے اس عظیم واقعے کے بارے میں جو کچھ مجھے عرض کرنا ہے، جو کہ ہمارے لیے ایک سبق اور عبرت ہے، وہ پہلے تو عالمی حقائق کی ایک تصویر کشی ہے، تاکہ یہ دیکھیں کہ مستکبرین، سامراج، عالمی غنڈے، طاقتور ممالک کیا چاہتے تھے اور کیا ہوگیا۔ کس مقصد کے پیچھے تھے لیکن عملی طور پر کیا ہوا؛ اس کے بعد انقلاب کی دو خصوصیات، جن کا تعلق ہمارے اسی دور سے ہے، انہیں بیان کروں گا۔

رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا اہم خطبۂ جمعہ
پہلا خطبہ

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للّٰہ ربِّ العالمین نحمدہ و نستعینہ و نتوکّل علیہ و نصلّی و نسلّم علیٰ حبیبہ و نجیبہ و خیرتہ فی خلقہ حافظِ سرّہ و مبلّغ رسالاتہ بشیر رحمتہ و نذیر نقمتہ سیّدنا و نبیّنا ابی القاسم المصطفیٰ محمد و علیٰ اٰلہ الاطیبین الاطہرین المنتجبین الھداة المہدیین المعصومین المکرّمین سیّما بقیة اللّٰہ فی الارضین۔ و نصلّی و نسلّم علیٰ ائمّة المسلمین و حماة المستضعفین و ہداة المؤمنین۔

اوصیکم عباد اللّٰہ بتقوی اللّٰہ

تقویٰ کی اہمیت
آپ سب معزز بھائیوں اور محترم بہنوں اور عزیز نمازیوں اور اپنے آپ کو تقوائے الہی پر عمل کرنے کی تاکید کرتا ہوں۔ آج کا دن امام علی بن موسی الرضا (علیہ آلاف التحیہ و السلام) کی شہادت کا دن ہے۔ چند دن قبل ہم لوگوں نے نبی اکرم و رسولِ معظم اسلام، حضرت محمد بن عبداللہ (ص) کی رحلت اور سبطِ اکبر حضرت مجتبیٰ (علیہ السلام) کی شہادت کو یاد کیا۔ ان عظیم مصیبتوں اور تاریخ کے ان ناگوار حوادث اور دردناک سانحات پر آپ نمازی مومنوں اور پوری ملتِ ایران اور تمام شیعوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔ پروردگارِ عالم اپنے پیغمبر سے بھی فرماتا ہے: یا أیھا النبیّ اتّقِ اللّٰہَ (سورۂ احزاب)، تقویٰ، تقویٰ کا ساتھ، تقویٰ پر عمل، یہاں تو مخاطب بھی پیغمبر اکرمۖ کی ذاتِ مقدس ہے۔ خدا کو نظر میں رکھیں؛ اپنے اعمال، اپنی رفتار و گفتار حتیٰ کہ اپنے افکار و تصورات کی بھی نگرانی کریں؛ یہ ہے تقویٰ کے معنی۔ اگر یہ حاصل ہوگیا تو تمام بند راستے کھل جائیں گے اور خدائے متعال ہر مرحلے میں، ایک ایسی ملت کی جو باتقویٰ ہو، مدد کرے گا۔

عشرہ فجر کی اہمیت
اس سال کا عشرہ فجر (ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کا دس روزہ سالانہ جشن) اور ٢٢ بہمن (١١ فروری) ایک منفرد جوش و خروش کا حامل ہے۔ کیونکہ لوگ کئی برسوں کی جدوجہد کے بعد اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی آواز کی بازگشت، ان کی مظلومانہ لیکن مستحکم آواز آج دنیائے اسلام کے دوسرے خطوں میں بھی طاقت کے ساتھ سنائی دے رہی ہے۔
شمالی افریقہ، مصر، تیونس اور بعض دوسرے ممالک میں پیش آنے والے یہ واقعات، ہم ملتِ ایران کے لیے ایک مختلف معنی کے حامل ہیں؛ ایک مخصوص معنی رکھتے ہیں، یہ وہی چیز ہے جسے ملتِ ایران کے عظیم اسلامی انقلاب کی کامیابی کی مناسبت سے اسلامی بیداری کے عنوان کے تحت ہمیشہ بیان کیا جاتا تھا، اور آج یہ سب ظاہر ہو رہا ہے؛ اس لیے یہ دہہ (فجر) اہمیت رکھتا ہے۔
آج میں پہلے خطبے میں، کچھ باتیں اپنے انقلاب کے بارے میں عرض کروں گا، دوسرے خطبے میں کچھ مصر اور تیونس کے مسائل کا ذکر ہوگا اور اس کے بعد آپ معزز نمازیوں کی اجازت سے اس پورے خطے کے عرب مسلمانوں کے لیے عربی زبان میں خطاب کروں گا؛ انشاء اللہ!
کچھ اسلامی انقلاب کے بارے میں
ہمارے اپنے انقلاب کے بارے میں، ملت ایران کے اس عظیم واقعے کے بارے میں جو کچھ مجھے عرض کرنا ہے، جو کہ ہمارے لیے ایک سبق اور عبرت ہے، وہ پہلے تو عالمی حقائق کی ایک تصویر کشی ہے، تاکہ یہ دیکھیں کہ مستکبرین، سامراج، عالمی غنڈے، طاقتور ممالک کیا چاہتے تھے اور کیا ہوگیا۔ کس مقصد کے پیچھے تھے لیکن عملی طور پر کیا ہوا؛ اس کے بعد انقلاب کی دو خصوصیات، جن کا تعلق ہمارے اسی دور سے ہے، انہیں بیان کروں گا۔
موجودہ حالات کی تصویر کشی
پہلا حصہ، کہ جس کا تعلق موجودہ حالات کی ایک تصویر اور پھر اس کا موازنہ ہے ان باتوں کے ساتھ جو کہ عالمی غنڈے اور سامراج چاہتا تھا، کے حوالے سے عرض کرتا ہوں: پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے فاتحین، جن میں زیادہ تر چند یورپی ممالک اور امریکہ تھے، ان کے پاس مشرقِ وسطیٰ کے اس اہم خطے کے لیے ایک مستقل پالیسی تھی؛ کیونکہ یہ خطہ، اسٹریٹجک حوالے سے بھی اہم ہے، ایشیا، یورپ اور افریقہ کو باہم متصل کرنے والا علاقہ ہے، نیز دنیا کے عظیم ترین تیل کے ذخائر میں سے ایک ہے ۔۔ یہی تیل، جو کہ ان تمام صنعتی طاقتوں کے لیے شہ رگ کا حکم رکھتا ہے جو آج دنیا پر حاکم ہیں ۔۔ نیز ملتوں کے لحاظ سے بھی یہاں بہت قدیم ملتیں ہیں جن کی جڑیں بہت گہری اور تاریخ بھی اہم ہے۔ اس لیے اس خطے کے لیے انہوں نے ایک پالیسی اختیار کی۔ وہ پالیسی یہ تھی کہ اس خطے میں ایسے ممالک اور ایسے سیاسی یونٹ وجود میں آجائیں، جو ان خصوصیات کے مالک ہوں: اولاً کمزور ہوں، ثانیاً ایک دوسرے کے دشمن ہوں، مخالف ہوں، ایک دوسرے کا ساتھ نہ دیں، اتحاد نہ کرسکیں ۔۔ لہذا آپ نے دیکھا کہ عرب قوم پرستی، ترک قوم پرستی، ایرانی قوم پرستی کو ہوا دینے کی پالیسی پر لمبی مدت تک عمل ہوا۔ ثالثاً یہاں کے حکمران، ان کے بٹھائے ہوئے ہوں، اطاعت گذار ہوں، مغربی طاقتوں کے زیر اثر آنے والے اور بات ماننے والے ہوں۔ رابعاً اقتصادی اعتبار سے خرچ کرنے والے (Consumer) ہوں؛ یعنی جو تیل تقریباً مفت ان سے لیتے ہیں، اسی تیل کی قیمت دوبارہ درآمدات کی مد میں خرچ کر دیں، چیزوں کے استعمال میں خرچ کردیں تاکہ مغربی کارخانوں کی رونق باقی رہے؛ پانچویں بات یہ کہ علمی اعتبار سے غیرترقی یافتہ ہوں، انہیں علمی ترقی کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ باتیں جو میں عرض کر رہا ہوں، سب عنوانات ہیں۔ ان میں سے ہر ایک درحقیقت ایک کتاب کے برابر تشریح اور تفصیل کا متقاضی ہے۔ کس طرح سے ہمارے اپنے ایران میں، بعض دوسرے ممالک میں علم کے پھیلاؤ اور علمی گہرائی سے روکتے تھے۔ اس خطے کی عوام، ثقافتی اعتبار سے یورپیوں کی تقلیدِ محض کرے؛ عسکری اعتبار سے، ذلیل، بے بس اور کمزور ہو؛ اخلاقی اعتبار سے فاسد ہو، طرح طرح کے اخلاقی انحطاط سے دوچار ہو؛ مذہبی اعتبار سے بھی مکمل طور پر سطحی اور انفرادی مذہب پر راضی رہنے والے بلکہ صرف رسمی طور پر مذہبی رہ جائے۔ یہ وہ خواب تھا جسے انہوں نے اس خطے کے لیے دیکھا تھا۔ اسی کے لیے پالیسیاں بنائی تھیں؛ شاید مغربی پالیسی سازوں نے ہزاروں گھنٹے بیٹھ کر ان مسائل پر مطالعہ کیا تھا، غور کیا تھا، منصوبہ بندی کی تھی، اپنے آدمیوں کو اس خطے کے ممالک میں مامور کیا تھا اور ان کے ذریعے سے کام انجام دیئے تھے۔ اس تجزیہ کے ذریعے رضا خان (شاہ کے باپ) کے عمل کو صحیح طور پر سمجھا جاسکتا ہے، محمد رضا (شاہ) کے عمل کو سمجھا جاسکتا ہے، ترکی کے مصطفی کمال (اتاترک) اور بہت سے دوسروں کے کاموں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ یہ' ان کا منصوبہ تھا۔
اس میں کامیاب بھی رہے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے، سوائے بعض مختصر ادوار کے، اور وہ بھی صرف بعض معاملات میں، صرف بعض مختصر ادوار میں۔ مثلاً مصر میں چند برسوں کے لیے ایک قومی حکومت بن گئی، ایران میں کسی اور طریقے سے، دوسرے ممالک میں دوسرے انداز سے؛ لیکن عمومی اور کلی طور پر دیکھیں تو ان تمام معاملات میں وہ آگے ہی بڑھے ہیں، انقلاب سے پہلے تک۔ لیکن اچانک ایک بڑا واقعہ پیش آجاتا ہے، ایک عظیم اور پُرنور دھماکہ ہو جاتا ہے جو ان کے تمام معاملات کو دگرگوں کر دیتا ہے۔ امام خمینی کے نام سے ایک عالم، برجستہ، حکیم، فقیہ، مجاہد، بہادر، خطرات کا مقابلہ کرنے والا اور بااثر انسان ایرانی عوام میں ظاہر ہوتا ہے کہ درحقیقت اس مرد کا ظاہر ہونا، اس کا سامنے آنا، اس عظیم انسان کی تربیت کرنا، یہ سب خدا کا کام تھا۔ یہ الہی تقدیر تھی کہ کچھ ایسا ہو جائے۔ ایران کے لوگ بھی تیار تھے، استقبال کیا، قبول کیا، خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، میدان میں آگئے، اپنی جان دی، مال لٹایا۔ امتحان میں خوب کامیاب ہوئے۔ لہذا انقلابِ اسلامی وجود میں آگیا۔ اُن کے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے، ان میں خلل واقع ہوا۔ ایران میں اسلامی انقلاب قوت کے ساتھ ظاہر ہوا اور قوت کے ساتھ جاری رہا۔ یعنی ایسا نہیں تھا کہ پہلے دو تین سال ایک ہیجان اٹھے اس کے بعد سب کچھ ختم ہو جائے؛ نہیں، یہ سب جاری رہا؛ بعد میں اس کے جاری رہنے کے حوالے سے کچھ عرائض پیش کروں گا۔
امام پہاڑ کی مانند ڈٹ گئے، ملت بھی امام کے پیچھے پہاڑ کی طرح جم کر کھڑی ہوگئی۔ دشمن کا محاذ ۔۔ یہ ایک دشمن نہ تھا، پورا محاذ تھا ۔۔ بھی پوری کوشش کرتا رہا؛ ان سے جو کچھ بن پڑا، انہوں نے کیا؛ سڑکوں پر جھڑپوں سے لے کر قومی جنگوں، فوجی کودتا، آٹھ سالہ جنگ مسلط کرنا، اقتصادی بائیکاٹ، پچھلے بتیس برسوں کے دوران نفسیاتی جنگ کے لیے زبردست وسائل کا استعمال تک۔ بتیس برسوں سے ایرانی عوام، انقلاب اور امام کے خلاف نفسیاتی جنگ جاری ہے: جھوٹ بولا، تہمت لگائی، افواہیں پھیلائیں، اختلافات ڈالنے کی کوششیں کیں، اندرونی طور پر راستوں کو منحرف کرنے کی سازشیں کیں۔
دشمن کے اہداف
وہ جن اہداف کو حاصل کرنا چاہتے تھے، اس میں پہلے مرحلے پر، انقلاب اور نظامِ جمہوری اسلامی کا خاتمہ تھا۔ پہلا ہدف، ختم کرنا تھا۔ اگلا ہدف یہ تھا کہ اگر اسلامی نظام کا خاتمہ نہ ہوسکے تو انقلاب کی ہیئت تبدیل کردیں یعنی انقلاب کی صورت باقی رہے لیکن انقلاب کا باطن، انقلاب کی سیرت، انقلاب کی روح ختم ہو جائے۔ اس حوالے سے انہوں نے بہت کوششیں کیں؛ اور آخری کوشش جو ظاہر ہوئی، وہ ٨٨ (٢٠٠٩) کا فتنہ تھا۔ درحقیقت یہ ایک کوشش تھی، کچھ لوگ اندر سے، حبِ نفس کی خاطر، حبِ جاہ کے لیے ۔۔ یا اسی قسم کے دوسرے خطرناک نفسانی امراض کی وجہ سے ۔۔ اس سازش کا شکار ہو گئے۔ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ سازش کرنے والے، منصوبہ بنانے والے اور ڈائریکشن دینے والے سرحدوں کے اُس جانب تھے اور ہیں۔ اندر سے ان کے ساتھ تعاون کیا گیا؛ بعض نے دانستہ اور بعض نے نادانستہ طور پر۔ یہ تھا دوسرا ہدف۔
اور تیسرا ہدف یہ تھا اور ہے کہ کچھ ایسا کام کر ڈالیں کہ اگر اسلامی نظام باقی رہ جائے تو کچھ ایسے ضعیف النفس انسانوں سے فائدہ اٹھایا جائے جن کے اندر گھسا جاسکتا ہو اور ملکی معاملات میں انہی کو اپنا اصلی فریق قرار دے دیا جائے۔ آخرکار ایسا نظام وجود میں آجائے اور جاری رہے جس میں مناسب استحکام نہ ہو، کمزور ہو، اطاعت گزار ہو ۔۔ اصل یہ ہے کہ کاسہ لیس اور مطیع ہو ۔۔ امریکہ کے مقابلے میں سینہ سپر نہ ہو، کھڑا نہ ہو۔ یہ ہیں اہداف۔

یہ کام اور یہ مراحل اب تک ناکام رہے ہیں، آج تک وہ نہیں کرسکے۔ البتہ بہت کوششیں کیں، طرح طرح کے کام کرتے رہے ۔۔ اپنی گفتگو کے دوران ان میں سے بعض کی جانب اشارہ کروں گا ۔۔ اپنی کوششوں میں انہوں نے کوئی کمی بھی نہیں چھوڑی، لیکن کامیاب نہ ہوسکے؛ کیونکہ لوگ بیدار تھے۔ ہمارے معاشرے میں بہت اچھے دانشور ہیں؛ بہت اعلیٰ ملت ہے؛ مملکت کے ذمہ دار عناصر بہت اچھے ہیں۔ الحمد للہ آج تک دشمن اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکا ہے۔ انقلاب نے اپنا راستہ جاری رکھا ہے اور آگے بڑھا ہے۔
انقلاب کے ثمرات
اب انقلاب میں ہوا کیا ہے؟ دیکھیے، یہ بہت اہم ہے۔ یہ انقلاب جو کہ ایران میں آیا، اس نے کچھ ایسی تبدیلیاں پیدا کردیں جو گہرائی کے اعتبار سے بہت اہمیت رکھتی ہیں، بنیادی تبدیلیاں ہیں۔ انہی تبدیلیوں کی بنیاد پر سوسائٹی کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے اور بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔ یہ بنیادی ستون بہت مضبوطی سے لگائے گئے ہیں۔
میں ان تبدیلیوں میں سے بعض کو عرض کروں گا۔ البتہ یہ سب کو معلوم ہیں، سب جانتے ہیں، ہماری آنکھوں کے سامنے ہے؛ لیکن جس طرح سے خدائے متعال قرآن میں ہمیں سورج کی جانب توجہ دلاتا ہے، و الشّمسِ و ضُحیٰھا (سورۂ شمس) سورج ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، لیکن قسم کھاتا ہے تاکہ ہم زیادہ توجہ مبذول کریں کہ یہ واقعہ، یہ حادثہ، یہ چیز اس قدر عظمت کی حامل ہے۔ ہم بھی اپنے اردگرد موجود اس عظیم مسئلے کی جانب توجہ کریں؛ لہذا ان کا ذکر اس اعتبار سے ضروری ہے کہ ہم خود توجہ کریں۔
دینِ اسلام ریاستی امور کا محور
اولاً انقلاب سے پہلے، مملکت پر مسلط نظام، سخت اسلام ستیز نظام تھا۔ انہیں ظاہری معاملات سے زیادہ سروکار نہ تھا، لیکن باطنی حوالے سے وہ درحقیقت لوگوں کے اسلامی اعتقادات کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتے تھے۔ اس حوالے سے مثالیں، شواہد، یادگار واقعات بندۂ حقیر کے ذہن میں ہیں جن کو بیان کرنے کا موقع نہیں ہے۔ انقلاب آیا بالکل اس کے ١٨٠ درجے مقابل۔ اسلام کو ریاست کے امور چلانے کے لیے محور بنایا؛ مدیریت کا مرکز قرار دیا؛ (آج) اسلامی احکام و قوانین مملکت کے قوانین اور ان کو نافذ کرنے والے حکمرانوں کو مسترد یا قبول کرنے کا معیار ہیں۔
سیاسی استقلال
انقلاب سے پہلے، سیاسی اعتبار سے ملک وابستہ تھا؛ یعنی حکومت، خواہ خود محمد رضا (شاہ) ہو یا دوسرے مختلف ادارے؛ سب امریکہ کے کاسہ لیس تھے؛ امریکی اشاروں کے منتظر تھے۔ اس حوالے سے بھی متعدد شواہد موجود ہیں۔ ایک آدمی (ڈاکٹر امینی) یہاں سے اٹھتا ہے اور امریکہ جاتا ہے کہ امریکیوں کو ایران میں اپنے وزیرِ اعظم بننے پر راضی کرے۔ آیا اور وزیر اعظم بن گیا۔ دو ایک سال بعد، شاہ، جو کہ اس کا مخالف تھا، وہ گیا امریکہ، امریکیوں کو راضی کیا کہ اسے وزارتِ عظمیٰ سے معزول کردے۔ آیا اور اسے وزارتِ عظمیٰ سے معزول کردیا! یہ تھی ہمار ے ملک کی حالت۔ وزیرِ اعظم، بادشاہِ مملکت، ملک کے سربراہ کا انتخاب امریکہ کی حمایت اور اس کی رضامندی کا محتاج تھا۔ بہت سے معاملات میں شاہ، امریکہ اور برطانیہ کے سفیر کو اپنے محل میں دعوت دیا کرتا تھا تاکہ جو فیصلہ وہ کرنا چاہ رہا ہے، ان کو اس سے آگاہ کرے! اگر وہ مخالف ہوتے تو فیصلہ پر عمل نہیں ہوتا تھا۔ سیاسی وابستگی یعنی یہی۔ یہ امریکہ کے مطیع محض تھے؛ اور امریکی دورِ تسلط سے پہلے برطانیہ کے مطیع تھے۔ رضا خان کو خود برطانویوں نے حکمرانی دی تھی؛ پھر جب دیکھا کہ اب وہ ان کے لیے بیکار ہوگیا ہے تو خود ہی اسے معزول کردیا، اسے مملکت سے بے دخل کردیا اور اس کے بیٹے کو اس کی جگہ لے آئے۔ یہ سب انقلاب سے پہلے تھا۔
انقلاب آیا اور ریاست کو بھرپور سیاسی استقلال دے دیا۔ یعنی آج اس بھری دنیا میں، اتنی ساری طاقتوں میں سے کوئی بھی بڑی طاقت ایسی نہیں ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ اس کی خواہشات، اس کا ارادہ ملک کے ذمہ داروں یا ایرانی عوام پر ذرہ برابر بھی اثر کر سکتا ہے۔ خصوصاً یہ نکتہ ۔۔ یعنی سینہ تان کر کھڑے ہونا، استقلال، سیاسی عزت ۔۔ تمام ملتوں کے لیے سب سے بڑھ کر جاذبیت کا حامل ہے۔ یہ جو آپ دیکھتے ہیں کہ تمام ملتیں ایران کی عظیم ملت کے لیے دل میں عزت محسوس کرتی ہیں، اس کی زیادہ تر وجہ یہی ہے: سیاسی استقلال ۔
جمہوریت
انقلاب سے پہلے، بادشاہت تھی۔اس کے مقابلے میں جمہوریت ہے۔ بادشاہت میں لوگوں کا کوئی اختیار نہیں ہوتا؛ جمہوری حکومتوں میں لوگ ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔ انقلاب سے پہلے حکومت وراثتی تھی؛ ایک مر جاتا تھا، اپنی جگہ دوسرے کو معین کر دیتا تھا؛ یعنی لوگوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا تھا۔ چاہیں یا نہ چاہیں، انہیں قبول کرنا ہوتا تھا۔ جمہوری اسلامی ایران میں انقلاب کی برکت سے حکومت انتخابی ہے۔ لوگ انتخاب کرتے ہیں؛ لوگوں کا مزاج اور ان کی خواہشات تقدیر ساز ہیں۔ انقلاب سے پہلے' حکومت' آمرانہ اور پولیس اسٹیٹ کی طرح سے تھی؛ ایک سخت اور تاریک ڈکٹیٹرشپ۔ مجھے یاد ہے، پاکستان سے ایک ہمارے دوست ہمارے پاس مشہد ۔۔ غیر قانونی طور پر ۔۔ آئے تھے۔ وہ باتوں کے دوران کہہ رہے تھے کہ فلاں اعلامیہ ہم نے باغ میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر پڑھا۔ مجھے حیرت ہوئی تھی؛ باغ میں؟! اعلامیہ؟! ایسا کیسے ممکن ہے؟! ہمارے ذہنوں میں تو خطور بھی نہیں کرتا تھا کہ کسی کی جیب میں ایک اعلامیہ ہو جس میں حکومت پر کچھ تنقید ہو اور وہ گلیوں میں چل پھر سکے۔ یہ تھی اس زمانے کی پولیسی ڈکٹیٹر شپ کی حالت۔ انقلاب آیا، اس نے آزاد فضا کو، تنقید کی فضا کو، اصلاح کی فضا کو، تذکر کی فضا کو یہاں تک کہ لوگوں کے لیے مخالفت اور اعتراض کی فضا کو کھول دیا۔ ان بتیس برسوں میں اسی طرح سے تھا؛ یہاں تک کہ انقلاب کے ابتدائی برسوں میں بھی۔
علم و ٹیکنالوجی کی ترقی
انقلاب سے پہلے ملک کے علم و ٹیکنالوجی کا پورا دارومدار مغرب پر تھا۔ کئی بار عرض کیا ہے؛ ہمارے بعض فوجی طیاروں کے پارٹس جو خراب ہوچکے تھے یا گھس گئے تھے، اور ان کی مرمت ضروری تھی، اس بات کی اجازت نہیں دی جاتی تھی کہ ایئر فورس کے افراد اس پارٹ کو کھولیں اور دیکھیں کہ یہ کیا ہے؟ یہ تو بہت دور کی بات ہے کہ اسے بنانے کی فکر بھی کریں۔ وہ پارٹ جہاز میں لاد کر امریکہ لے جایا جاتا تھا اور اس کی جگہ دوسرا لے آتے تھے یا اگر مرمت ہونا ہوتی تو مرمت کر دیتے تھے۔ جو صنعت موجود تھی وہ سب اسمبلنگ کی صنعت تھی، بغیر کسی جدت طرازی کے۔ انقلاب کے بعد علمی اعتبار سے اپنے اوپر یقین پیدا ہوا اور عوامی سطح پر خوداعتمادی پیدا ہوئی۔ اتنے دانشور، یہ برجستہ اور بڑے دانشور، مختلف شعبوں میں، دیکھے گئے۔ آج ہمارے ملک میں ایسے دانشور موجود ہیں کہ پوری دنیا میں ان جیسے افراد انگشت شمار ہی ہیں۔ بہت کم ہیں۔ ہمارے دانشور آگے بڑھے ہیں اور زیادہ تر جوان ہیں۔
سیاسی اثر و رسوخ
انقلاب سے پہلے ایران دنیا کے بلکہ خطے کے مسائل میں کوئی قابلِ ذکر کردار کا حامل نہیں تھا۔ ایک بے وقعت ملک تھا؛ مسائل میں کوئی اثر نہیں ڈال سکتا تھا۔ انقلاب کے بعد دنیا بھر کی ملتوں کی آنکھوں میں، اس ملت کی عزت و عظمت نے، خطے کے معاملات میں اس کے اثر نے دشمن کو مبہوت کر کے رکھ دیا ہے۔ دشمنوں کو اعتراف و اقرار کرنا پڑا۔ آج آپ دیکھئے! ان سائٹس پر جو بین الاقوامی خبریں دیتے ہیں، ہمیشہ ایران کے اثر و رسوخ، ایران کے تسلط، خطے کے مسائل میں ایران کی موجودگی کا ذکر ہوتا ہے؛ اپنے مخصوص مفادات کی خاطر سہی، لیکن اعتراف کرتے ہیں۔
ثقافتی استقلال
انقلاب سے پہلے، ثقافتی اعتبار سے ہم مقلد محض تھے؛ لیکن انقلاب کے بعد، ثقافتی یلغار کو ایک خطرہ سمجھا گیا۔ اس قسم کے عنوانات بہت ہیں۔ یہ بنیادی چیزیں ہیں۔
جب کسی ملک میں یہ بنیادیں ڈال دی جائیں، پھر ایسی ملت یہ امید کر سکتی ہے کہ ان پر ایک جدید اور عظیم تمدن کی بنیاد ڈال سکتے ہیں۔ ان میں سے ہر خصوصیت کسی نہ کسی اعتبار سے ملتوں کی توجہ کو مبذول کرواتی ہے۔ دوسرے ملکوں کی عوام نظر ڈالتی ہے، دیکھتی ہے، جذب ہوجاتی ہے، داد و تحسین دیتی ہے؛ البتہ ان میں سب سے زیادہ اہم وہی سیاسی استقلال اور عالمی بدمعاشوں کے مقابلے میں سینہ تان کر کھڑا ہونا ہے۔
میں ایک مغربی صاحب مقام شخص کا ایک قول نقل کرتا ہوں۔ میری یہ عادت نہیں ہے کہ میں مغربی سیاستدانوں اور مشہور لوگوں کی باتیں نقل کروں؛ لیکن یہ جملہ بہت دلچسپ ہے۔ وہ کہتا ہے: دو چیزیں ایسی ہیں، جو اگر مسلمانوں کے درمیان پھرتی رہیں اور مسلمان عوام ان دو چیزوں سے آگاہ ہو جائیں تو مغرب کے تمام مسلمہ اصول ناکام اور باطل ثابت ہو جائیں گے۔ یہ دو چیزیں کیا ہیں؟ یہ مغربی مفکر کہتا ہے: ایک جمہوری اسلامی کا آئین ہے؛ کہ یہ آئین ایک عوامی اور دور جدید کی ترقی یافتہ حکومت جو کہ مکمل طور پر دینی بھی ہو، کو دنیا کے مسلمانوں کی نظر میں ممکن بناتا ہے۔ یہ آئین بتاتا ہے کہ ایک ایسی حکومت ممکن ہے جو ماڈرن بھی ہو، آج کے دور کی بھی ہو، ترقی یافتہ بھی ہو اور مکمل طور پر دینی بھی ہو۔ آئین اس کی تصویر کشی کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ ایسا ممکن ہے۔ یہ ایک۔ دوسری چیز، جمہوری اسلامی (ایران) کے علمی، اقتصادی، سیاسی اور فوجی کارنامے ہیں؛ کہ یہ مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں کہ یہ امرِ ممکن عمل میں بھی آچکا ہے، وقوع پذیر بھی ہو چکا ہے۔ وہ کہتا ہے، مسلمان عوام اگر اس امکان اور وقوع نسبی، جو کہ ممکن بھی ہے اور آج کے اسلامی ایران میں بطورِ نسبی واقع بھی ہوچکا ہے، سے آگاہ ہو جائیں، اس نظام سازی کو مدنظر رکھ لیں تو پھر انقلاب کے سلسلوں کو نہیں روکا جاسکے گا۔
آج یہ ہوچکا ہے۔ البتہ یہ سب آج نہیں ہوا ہے؛ تیس سال ہوچکے ہیں۔ ایک بات آہستہ آہستہ اور بتدریج ملتوں کے ذہنوں میں جگہ پاتی ہے، رشد کرتی ہے، پختہ ہوتی ہے، بعد میں اس صورت میں جو کہ آج شمالی افریقہ اور دوسرے خطوں میں دیکھی جارہی ہے، ظاہر ہوتی ہے۔
انقلاب کے حوالے سے مغرب کی سیاسی غلطیاں
البتہ خود مغرب والوں نے بھی سیاسی غلطیاں کی ہیں؛ ان سیاسی غلطیوں نے بھی جمہوری اسلامی کی مدد کی ہے۔ دیکھئے، اسی ایٹمی مسئلے میں مغرب والوں نے غلطی کردی۔ ایران کے ایٹمی مسئلے کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے اسے بڑھایا چڑھایا، شور مچایا، دباؤڈالا کہ جمہوری اسلامی کو ایٹمی مسئلے سے پسپا ہو جانا چاہیے۔ ٹھیک ہے، ان سات برسوں میں۔۔ سات سال سے یہ لوگ کوششوں میں مصروف ہیں ۔۔ دو باتیں دنیا بھر کے لوگوں کے لیے واضح ہو گئیں۔ ایک یہ کہ ایران ایٹمی مسئلے میں غیر متوقع کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ دوسری یہ کہ ایران تمام تر دباؤکے باوجود ڈٹا ہوا ہے اور پسپا نہیں ہورہا۔ یہ سب ملتِ ایران کے فائدے میں تھا۔ اب پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ، یورپ، ان کے معاونین اور ان کے پیچھے چلنے والے تمام تر دباؤ کے باوجود جمہوری اسلامی پر غالب نہیں آسکے ہیں اور اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکے ہیں۔ یہ بات خود ملتِ ایران کے دشمنوں کی وجہ سے جان لی گئی؛ یعنی یہ بات ملتِ ایران کے تعارف کے لیے مددگار بن گئی۔
دوسرے معاملات میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ہوا کھڑا کر دیا کہ ہم تیل پر پابندی لگانا چاہتے ہیں تاکہ تیل نہ پہنچے۔ ہاں ہم تیل کی درآمد کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ کہنے لگے کہ ہم تیل کو روک دیں گے۔ ہوا کھڑا کیا، شور مچایا اور جنجال برپا کیا۔ ان کے تجزیہ کاروں نے اندازہ لگایا تھا، کہا تھا کہ ریاست میں انارکی پھیل جائے گی، لوگ نہ جانے کیا کچھ کردیں گے۔ یہ چیز اس بات کا سبب بنی کہ مملکت کے ذمہ دار تیل کی زیادہ پیداوار کے بارے میں سوچنے لگے۔ آج، جیسا کہ مجھے رپورٹ ملی ہے ۔۔ البتہ توفیق الہی سے انشاء اللہ ٢٢ بہمن (١١ فروری) تک ملک مکمل طور پر تیل کی درآمد سے بے نیاز ہو جائے گا۔ جیسا کہ مجھے رپورٹ دی گئی ہے، اس کے بعد ہم تیل برآمد بھی کر سکتے ہیں؛ جس کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔ تو ان کا یہ شور شرابا بھی ملتِ ایران کے فائدے میں ہی گیا۔ بین الاقوامی نگرانوں نے بھی اسے دیکھا۔ تمام معاملات میں ایسا ہی ہے۔
جنگ کے دور میں اسلحے کی پابندی میں بھی ایسا ہی ہوا۔ (جمہوری اسلامی کے) مقابلے میں ایک افراطی اسلامی تحریک کو کھڑا کرنے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ آئے اور ہمارے پڑوس میں ایک (حد سے بڑھی ہوئی) افراطی اسلامی تحریک بنا دی، جمہوری اسلامی کو نیچا دکھانے کے لیے۔ اب وہی' ایک آفت بن کر خود ان کی جان کا روگ بن گئی ہے۔ اب اس کو روک بھی نہیں سکتے۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کس طرح اس کا حل نکالیں۔ مذہبی اختلافات پیدا کرنے میں بھی ایسا ہی ہوا۔
اسی ٨٨ کے فتنے (٢٠٠٩) میں بھی ایسا ہی تھا۔ ہوا کھڑا کیا، شور مچایا، کہا کہ جمہوری اسلامی اب ختم ہوگئی، اختلافات پیدا ہوگئے ہیں؛ ایسا ہوگیا ہے، ویسا ہوگیا ہے۔ پھر دیکھا کہ ملتِ ایران نے اس پر غلبہ پالیا ہے۔ پچھلے سال ٩ دی اور ٢٢ بہمن کے دن صحیح معنی میں ایام اللہ تھے۔ دل خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ خدائے متعال نے ان دلوں کو میدان میں اتارا، ملتِ ایران نے اپنی عظمت کا اظہار کیا۔
وہ جو کام بھی کر رہے ہیں، ان کے نقصان میں ہی جارہا ہے۔ آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ تو یہی حقیقت ہے جو آج دنیا میں موجود ہے۔ کیا چاہتے تھے اور کیا ہوا!
اسلامی انقلاب ۔۔۔۔ ایک مثال
اور اب دوسری بات جو مجھے کہنا تھی، وہ عرض کرتا ہوں۔ کسی بھی واقعے کی اہمیت کو جاننا ہو نیز اس کام کی کامیابی کو سمجھنا ہو تو دیکھنا چاہیے کہ وہ کام کس قدر لوگوں کے لیے مثال بنا ہے اور اس نے کس قدر استقامت سے کام لیا ہے، ثابت قدم رہا ہے، اپنی بات پر قائم رہا ہے۔ انقلاب بھی اسی طرح سے ہوتے ہیں۔ ایک انقلاب اگر کسی کے ذہن و عمل پر اثر ڈالنا چاہتا ہے اور دوسروں کے لیے مثال بننا چاہتا ہے تو اس میں کچھ خصوصیات ہونی چاہئیں۔ اہم ترین خصوصیت، استقامت، ثابت قدمی اور اپنی بات پر قائم رہنا ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو وہ انقلاب دوسروں کے لیے مثال بن جائے گا؛ بصورت دیگر ایسی بجلی ہوگی جو کسی جگہ چمکی اور پھر خاموش ہوگئی، کچھ زیادہ مثال نہیں بن سکتا، کچھ زیادہ دوسروں کو اپنے پیچھے چلنے پر راضی نہیں کرسکتا۔ ہمارا انقلاب ایسا ہی ہے۔ ہمارا انقلاب فکر دے سکا ہے، مثال بن سکا ہے؛ اور یہ ثابت قدمی، استقامت اور اصولوں اور بنیادوں پر ڈٹ جانے کی وجہ سے ہوا ہے کہ اس انقلاب نے امام کے وسیلے سے اعلان کیا، اس انقلاب نے استقامت دکھائی۔ میں اس بارے میں بھی چند نمونے عرض کروں گا۔
ایک مثال' اسلامی ہونا ہے۔ امام نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہمارا انقلاب اسلامی ہے، اسلام پر مبنی ہے۔ دنیا میں بہت شور شرابا اور جنجال برپا ہوا۔ کہنے لگے اسلامی ہونا ڈیموکریسی سے میل نہیں کھاتا، اسلامی ہونا رجعت پسندی ہے، اسلامی ہونا ارتجاع ہے، اسلامی احکام قابلِ نفاذ نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کچھ لوگوں نے ان کی آوازوں کو اندر سے بھی ہوا دی؛ کتابیں لکھیں، مقالے تحریر کیے، افواہیں پھیلائیں، کہ جمہوری اسلامی کو اسلام پر پابندی سے پسپا ہونے پر مجبور کردیں۔ جمہوری اسلامی نے استقامت دکھائی اور ان کے شور شرابے کا شکار نہ ہوئی۔ ہاں، ہم اسلامی ہیں؛ اس پر افتخار کرتے ہیں اور ہم ثابت کریں گے کہ یہی انسانیت کے لیے راہِ نجات ہے۔ جمہوری اسلامی نے بلند آواز سے پوری دنیا میں اس کا اعلان کیا۔
آج بتیس سال بعد، آپ ہماری سوسائٹی کو دیکھیں؛ اگر ہمارا عمل پہلے دن کی نسبت زیادہ اسلامی نہ ہو تو کم از کم اس انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی ایام جیسا ضرور ہے۔ ہمارے جن نوجوانوں نے امام کو نہیں دیکھا ہے، جنگ کے ایام نہیں دیکھے، انقلاب کی کوئی بات انہیں یاد نہیں ہے، لیکن اسلامی تعلیمات پر ان کی پابندی اور اس پر عمل ہم بوڑھوں سے بھی زیادہ بہتر ہے؛ وہ زیادہ مستحکم ہیں۔ (آج) مملکت کے ذمہ دار اسلامی ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ البتہ ان بتیس برسوں میں بہت کوشش ہوئی؛ یہاں تک کہ حکومت کے اندر بھی ایسے لوگ تھے جنہوں نے کوشش کی کہ راستے کو زگ زیگ کی صورت میں لے آئیں اور بتدریج دور کردیں، موڑ دیں؛ لیکن ایسا نہ کرسکے۔ جمہوری اسلامی اپنی بنیادوں پر، اسلامی ہونے کی بنیاد پر کھڑی رہی۔

یہ ایک نمونہ۔
ایک اور مثال' جمہوریت کا مسئلہ ہے۔ امام نے ابتداء ہی میں اعلان کردیا کہ لوگ اپنی رائے دیں؛ خواہ خود جمہوری اسلامی کے انتخاب میں، خواہ اسلامی آئین کی تدوین میں، خواہ اس آئین کو قبول کرنے میں جو کہ مجلس خبرگان میں مانا جا چکا تھا، خواہ صدر کے انتخاب میں، خواہ پارلیمنٹ کے انتخاب میں۔ امام ڈٹے رہے۔ دیکھئے، انقلاب کو بتیس سال ہو رہے ہیں، جو ریفرنڈم ہوئے ہیں ان کو ملا کر ہم اب تک بتیس بار عوامی انتخابات برپا کرچکے ہیں۔ یعنی بطورِ متوسط ہر سال ایک انتخاب۔ لوگ گئے، ووٹ ڈالے، انتخاب کیا۔ لوگوں کا انتخاب بہت اہمیت رکھتا ہے۔ جنگ کے زمانے میں تہران پر بمباری ہو رہی تھی، لیکن انتخابات ملتوی نہیں ہوئے۔ جنگ کے دوران، جن شہروں میں صدامی حکومت کے میزائل برس رہے تھے، وہاں بھی انتخابات ملتوی نہیں ہوئے۔ ایک بار پارلیمنٹ میں بہت دباؤ ڈالا گیا کہ شاید کسی طرح سے اپنے سیاسی دلائل کے ذریعے انتخابات کو ملتوی کرادیں، لیکن کامیاب نہیں ہوئے ۔ آج تک جمہوری اسلامی کے انتخابات میں اور عوامی حضور میں ایک دن کی تاخیر نہیں ہوئی ہے۔ یہ ہے جمہوریت۔ پہلے ہی دن امام نے کہا اور جمہوری اسلامی اس جمہوریت پر ڈٹ گئی۔ ہرگز یہ بات نہیں مانی کہ جمہوریت کو نظرانداز کردے۔ آج مملکت کے ذمہ دار، خبرگان رہبری، جو کہ رہبر کو نصب کرتے اور ہٹاتے ہیں، سے لے کر صدر، پارلیمنٹ، علاقائی کونسلیں یہ سب عوام کے منتخب شدہ افراد ہیں۔ مختلف قسم کی سوچ رکھنے والے گروہ بھی منتخب ہوئے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمیشہ ایک ہی فکر رکھنے والے لوگ (آئے ہوں)؛ نہیں، پہلے دن سے آج تک، یہ چند صدر جو بنے ہیں، ہر ایک مختلف صورت میں، مختلف رائے اور سیاسی رجحانات کے حامل تھے۔ لیکن سب کے سب' لوگوں کی رائے سے اقتدار میں آئے۔
اگلی مثال' عدالت اجتماعی (Social Justice) کی ہے۔ امام نے ابتداء ہی سے عدالت کا اعلان کردیا۔ عدالتِ اجتماعی ان سب کاموں سے زیادہ مشکل ہے۔ میں آپ سے عرض کرتا ہوں۔ جمہوریت کی حفاظت اور جو دوسرے کام جمہوری اسلامی میں ہوئے ہیں، عدالت اجتماعی کا استقرار ان سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ بہت مشکل کام ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم آج مکمل طور پر عدالت اجتماعی کے قیام میں کامیاب ہو گئے ہیں؛ نہیں، ابھی بہت فاصلہ باقی ہے۔ جو عدالت اسلام ہم سے چاہتا ہے، اس چیز سے جو آج ہماری سوسائٹی میں ہو رہی ہے بہت دور ہے۔ لیکن عدالت اجتماعی کی جانب حرکت نہیں رُکی ہے بلکہ جاری رہی اور روز بروز تیز تر ہوئی ہے۔ آج عدالت اجتماعی کی جانب حرکت پچھلے برسوں سے بھی زیادہ تیز ہے۔ پچھلے ادوار سے بھی بڑھ کر ہے۔
عدالت اجتماعی کا ایک اہم نمونہ، ملک میں موجود مواقع کی درست تقسیم ہے۔ عدالت اجتماعی کی حقیقت سے غافل نظاموں میں ایک خاص طبقے پر تکیہ کیا جاتا ہے، ملک کے مخصوص علاقوں پر تکیہ ہوتا ہے؛ لیکن جمہوری اسلامی میں جتنا آگے بڑھتے جائیں ۔۔ آج جب کہ بتیس سال گزر چکے ہیں ۔۔ اس بات کو زیادہ قوت سے دیکھتے ہیں۔ دیہاتوں پر بھی نظر رکھی جارہی ہے، دور دراز واقع شہروں پر نظر رکھی جارہی ہے ، یہ دیہاتوں میں اتنے گھروں کی تعمیر، دور دراز واقع شہروں اور دیہاتوں کی جانب سڑکوں کی تعمیر، سڑکوں کی تعمیر، مواصلاتی نظام، بجلی کی توانائی، مناسب پانی، ٹیلیفون، زندگی کے وسائل، یہ سب پورے ملک میں تقسیم ہوئے ہیں۔
یہ سفر جو مملکت کے ذمہ دار افراد مختلف صوبوں کا کرتے ہیں، مختلف شہروں میں جاتے ہیں، ان میں سے بعض دور دراز کے شہر تو یہ تصور بھی نہیں کرتے تھے کہ کسی دوسرے درجے کے ذمہ دار کو بھی کبھی دیکھ پائیں گے؛ اب وہ دیکھتے ہیں کہ ملک کے اہم ترین ذمہ دار افراد ان کے پاس جاتے ہیں، یہ سب بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ بہت اہم ہے۔ جب انسان جاتا ہے، مشکلات کو دیکھتا ہے تو اسے دور کرنے کے لیے تحریک پیدا ہوتی ہے؛ اور یہی عدالتِ اجتماعی کا استقرار ہے۔ ہم جارہے ہیں عدالتِ اجتماعی کی جانب۔
ایران میں مملکت کے عہدیدار
دنیا میں حکمرانوں کی زندگی میں جو کچھ نظر آتا ہے، وہ اشرافی طرزِ زندگی ہے؛ جو اقتدار حاصل کرلیتا ہے، صدارت یا کسی اور بڑے مقام پر پہنچ جاتا ہے، اس کی زندگی گویا ادھر سے اُدھر ہو جاتی ہے؛ ہمارے ملک میں ایسانہیں ہے۔ البتہ مجھ جیسے لوگ جنہیں اپنی زندگی سوسائٹی کے کمزور ترین طبقے کے مطابق رکھنی چاہیے، یہ توفیق ہمیں حاصل نہیں ہوئی ہے، ایسا نہیں ہوسکا ہے؛ لیکن سوسائٹی کے ذمہ داروں اور مملکت کے ذمہ داروں کی زندگی، بحمد اللہ عام لوگوں کی مانند اور بعض اوقات عام لوگوں سے بھی کچھ نیچے ہی ہے؛ یہ بہت اہمیت کی حامل بات ہے۔
یہی سہامِ عدالت کا مسئلہ، یہی دیہاتوں میں گھروں کی تعمیر کا مسئلہ، یہی سبسڈیز کو بامقصد بنانے کا معاملہ، یہ بہت بڑا کام ہے۔ انشاء اللہ اگر ملک کے ذمہ دار افراد اسے اچھی طرح نافذ کریں اور اس پر عمل کریں ۔ یہ بہت اہم ہے۔ یہ سبسڈی جو حکومت بجلی کی مد میں تمام لوگوں کو دیتی تھی، تو جو شخص اپنے گھر میں فانوس لگاتا ہے، زیادہ بجلی خرچ کرتا ہے، وہ کہاں اور جس کے گھر میں ایک بلب، دو بلب ہیں، وہ کہاں؟ جو زیادہ مالدار ہے وہ زیادہ سبسڈی لیتا تھا؛ یہ ظلم تھا۔ اب اس ظلم کو روکنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح سے روٹی کا مسئلہ ہے، اسی طرح سے پٹرول وغیرہ کے مسائل ہیں۔ ہم ڈٹے ہوئے ہیں۔ نظام عدالتِ اجتماعی کے نعرے پر قائم ہے۔
سامراج کی مخالفت
اگلا مسئلہ سامراج کی مخالفت ہے؛ دباؤ میں نہ آنا۔ اس معاملے میں بھی ہم ڈٹے رہے۔ یہ بہت مشکل کام تھا۔ لیکن جمہوری اسلامی اس مشکل کام کو انجام دینے میں کامیاب رہی۔ بہت سے لوگ ایسے تھے جو انقلاب کے آغاز ہی میں کہا کرتے تھے کہ جناب اب تو انقلاب آچکا ہے، اب بہت ہوگئی؛ چلو چل کر امریکیوں کے ساتھ اپنے معاملات نمٹا لیتے ہیں! اس کا مطلب یہ تھا کہ انقلاب کے ظلم ستیزی کے نعرے کو غلط قرار دے دیا جائے۔ اس بات کی تشویق کرتے تھے۔ ہر دور میں ایسے لوگ تھے جو اسی بات کے پیچھے تھے؛ یعنی چلو امریکہ کے ساتھ ہو جاتے ہیں؛ جو ہمارا اصلی دشمن ہے اسی کے سائے میں چلے جاتے ہیں؛ اسی کے دامن میں پناہ لے لیتے ہیں۔ اس کا مطلب، فلسطین کے معاملے پر سودے بازی کرنا ہے۔ اس کا مطلب عراق و افغانستان وغیرہ میں امریکہ کے مظالم سے چشم پوشی کرنا ہے۔ اس کا مطلب، ان تمام مظالم کو نظرانداز کرنا ہے جو امریکہ پوری دنیا میں عوام پر ڈھا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان باتوں پر اعتراض نہ کریں۔ تعلقات کو معمول پر لانے کا مطلب یہ ہے کہ پھر ملتِ ایران اور ایران کے ذمہ دار افراد صراحتاً کسی پر اعتراض نہ کرسکیں اور نہ اپنی بات کہہ سکیں۔ اور پھر اگلے مرحلہ میں، بتدریج ان کی باتیں ماننے پر مجبور ہو جائیں۔ بہت خوب، یہ ثابت قدمی اور استقامت باعثِ زحمت تھا؛ لیکن بابرکت تھا، رحمتِ الہی کو اس نے جذب کیا، ملتوں کی توجہ کو بھی مبذول کرلیا۔ ان بتیس برسوں کے دوران ملتِ ایران کا انقلاب کے اصلی ترین نعروں پر پابرجا رہنے سے یہ برکت حاصل ہوئی کہ آج عالمِ اسلام آپ کو عظمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جب آپ کے ملک کے ذمہ دار دوسرے ممالک کا دورہ کرتے ہیں تو اُس انداز سے ان کا استقبال کیا جاتا ہے۔ جب حساب لگانے والے سیاسی شخصیات کی محبوبیت کا اندازہ لگاتے ہیں تو آپ کے ملک کے ذمہ دار سرفہرست ہوتے ہیں۔ ملتِ ایران کا کام مثال بن گیا؛ آج آپ اس کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ یہ عظیم برکت اور یہ خصوصیت ان خصوصیات میں سے ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ہی معلوم ہوسکتی تھی۔
آج مصر میں آپ کی آواز ہی کی صدائے بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ امریکہ کا وہ صدر جو ہمارے انقلاب کے دور میں صدر تھا، ابھی چند روز پہلے ایک انٹرویو میں کہتا ہے کہ جو آوازیں مصر میں سنائی دے رہی ہیں، میں ان سے واقف ہوں! یعنی آج جو کچھ قاہرہ میں سنائی دے رہا ہے، وہ اس کی صدارت کے دور میں اس وقت کے تہران میں سنائی دیتا تھا۔ اس پر دنیا اپنا فیصلہ سنا رہی ہے۔ لہذا اس سال کا ہمارا دہۂ فجر (انقلاب کی کامیابی کا جشن) بہت اہم ہے، بہت حساس ہے، ہیجان انگیز اور پُرجوش ہے۔ انشاء اللہ ٢٢ بہمن (١١ فروری) کا مظاہرہ آپ ملت عزیز کے ذریعے سے ان افتخارات میں مزید اضافہ کردے گا۔

بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرحیم

انا اعطیناک الکوثر فصلِّ لربِّک و انْحرْ۔ انّ شانئَک ھو الابتر۔
٭…٭…٭